اردوئے معلیٰ

Search

 

جبین شب پر رقم کیے حرف کہکشاں کے

نصیب بدلے ہیں آپ نے ظلمت جہاں کے

 

خدا سے بندوں کو آپ کتنا قریب لائے

مٹا دیے فاصلے تھے جو کچھ بھی درمیاں کے

 

ضعیف لوگوں کے حق میں قدآوری کا پیغام

وہ بے نوا کی نوا مددگار ناتواں کے

 

نصاب تہذیب و آگہی کے چراغ دے کر

یقیں اُجالوں کو کر دیا ساتھ کارواں کے

 

وہ روشنی جس سے راہ پاتا ہے ہر زمانہ

نقوش پا ہیں کہ ہیں چراغ آیندگاں کے

 

در نبی پر دُعائیں اشکوں میں ڈھل رہی ہیں

کہ کھل رہے ہیں گناہ گاروں پر در اماں کے

 

چراغِ اسم نبی ہوا لپ پہ کیا فروزاں

صبیحؔ روشن ہوئے ہیں ایوان جسم و جاں کے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ