جبیں میری ہو اُنؐ کا سنگِ در ہو

جبیں میری ہو اُنؐ کا سنگِ در ہو

مرا سرکارؐ کے قدموں میں سر ہو

 

سوالی آپؐ کے لطف و کرم کا

مرا قلبِ حزیں ہو، چشمِ تر ہو

 

درُود و نعت ہو میرا وظیفہ

جمالِ مصطفیٰؐ پیشِ نظر ہو

 

جہاں سرکارؐ کا نقشِ قدم ہو

وہ میری رہگزر، میری ڈگر ہو

 

زمانے بھر سے نظریں پھیر لوں میں

اُدھر دیکھوں رُخِ زیبا جدھر ہو

 

خدارا اک نگاہِ لطف و رحمت

کرم اُمّت کے حالِ زار پر ہو

 

ظفرؔ مانگو دعا ہم بے کسوں پر

کرم اُنؐ کا فزوں تر، بیشتر ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم مجھ بندۂ مسکیں پہ آقاؐ
غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو
یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے
سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں
دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض
کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ
حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد
اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے
اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات