اردوئے معلیٰ

Search

جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں

ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی دیکھ سکتے ہیں

 

کرم سرکار کا اک پل میں دوری ختم کرتا ہے

نگاہِ منتطر سے ہجر کے پردے سرکتے ہیں

 

مرا ایمان ہے، سرکار کی چشمِ توجہ سے

گلستانِ سخن میں نعت کے غنچے چٹکتے ہیں

 

یہ چشمِ نم دعا کرتا ہوں جب اُن کے وسیلے سے

شبِ حالات میں اُمید کے جگنو چمکتے ہیں

 

میں آنکھیں موند کر صلِ علے کا ورد کرتا ہوں

حیاتِ تیز رو میں جب مرے اعصاب تھکتے ہیں

 

وہ رحمت کا سمندر، عضو کے موتی لٹاتا ہے

ندامت میں مری آنکھوں سے جب آنسو چھلکتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ