جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں

جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں

ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی دیکھ سکتے ہیں

 

کرم سرکار کا اک پل میں دوری ختم کرتا ہے

نگاہِ منتطر سے ہجر کے پردے سرکتے ہیں

 

مرا ایمان ہے، سرکار کی چشمِ توجہ سے

گلستانِ سخن میں نعت کے غنچے چٹکتے ہیں

 

یہ چشمِ نم دعا کرتا ہوں جب اُن کے وسیلے سے

شبِ حالات میں اُمید کے جگنو چمکتے ہیں

 

میں آنکھیں موند کر صلِ علے کا ورد کرتا ہوں

حیاتِ تیز رو میں جب مرے اعصاب تھکتے ہیں

 

وہ رحمت کا سمندر، عضو کے موتی لٹاتا ہے

ندامت میں مری آنکھوں سے جب آنسو چھلکتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ