اردوئے معلیٰ

جب بھی الجھے گا غلامانِ شہ ابرار سے

جب بھی الجھے گا غلامانِ شہ ابرار سے

ہوگا تیرا ہی زیاں کہدونگا یہ منجدھار سے

 

ہے چمن زار مدینہ سے تعلق استوار

کیا غرض مجھ کو کسی گلشن ، کسی گلزار سے

 

تشنہ لب آنکھوں کی یہ تشنہ لبی کب تک حضور

کیجیے سرشار مجھ کو شربت دیدار سے

 

اب بھی خوشبودار ہیں شہر نبی کے بام و در

آج بھی آتی ہے خوشبو کوچہ و بازار سے

 

مصطفیٰ کی مدح گوئی میں ہے کس درجہ مٹھاس

کوئی جاکر پوچھ لے یہ جامی و عطار سے

 

شوق پینے کا تو اچھا ہے مگر پینا فقط

رندِ طیبہ سے ، مدینہ کے کسی میخوار سے

 

غوث و خواجہ، بوالعلیٰ نے پی ہے جس سے ساقیا!

ایک جرعہ دے اسی خمخانہ اسرار سے

 

کس لیے تجھ کو سناؤں اے صبا میں حالِ دل

حال پوشیدہ نہیں میرا مرے غمخوار سے

 

زائر طیبہ سے دل میرا یہ کرتا ہے سوال

کیا تحائف لے کے آیا ہے بڑے دربار سے

 

اس کی قسمت کو نہ پائیں گے جہاں بھر کے طبیب

پوچھ لیں شاہِ مدینہ حال جس بیمار سے

 

ان کی الفت کو کلیجے سے لگانا فرض ہے

دو جہاں کی نعمتیں ملتی ہیں ان کے پیار سے

 

سرور کونین کو ہے پیار بے حد بے حساب

بیکس و لاچار سے اور مفلس و نادار سے

 

رب ہے معطی میں ہوں قاسم یہ حدیث پاک ہے

مانگنا جو ہو وہ مانگو احمد مختار سے

 

ان کے در کی بھیک مل جائے تو اس کے سامنے

سروری کیا ہے جو ملتی ہو در اغیار سے

 

نورؔ میں چہرہ تکوں غیروں کا آخر کس لیے

میری الفت کا تعلق ہے مرے سرکار سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ