جب بھی ہم اُنؐ کا ذکر کرتے ہیں

جب بھی ہم اُنؐ کا ذکر کرتے ہیں

پھول کھِلتے ہیں دیپ جلتے ہیں

مرا سرمایہ ہیں وہ آنسو جو

نعت کہتے ہوئے برستے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رات بیدار ہے کونین کی آنکھیں روشن
جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو
محمدؐ با خدا پیشِ نظر ہیں
آپؐ ہیں صادق و امیں آقاؐ
بشر کوئی نہیں خیر البشرؐ سا
یہ رُتبہ ہے نبیؐ کے آستاں کا
درِ سرکارؐ پر جھُکتے سبھی شاہ و گدا ہیں
پُر خار زندگی کو پھر پُر بہار کر دو
’’ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا‘‘
’’قبر کا ہر ذرّہ اک خورشیدِ تاباں ہو ابھی ‘‘