جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا

ہر کوئی فدا ہے بن دیکھے تو دیدار کا عالم کیا ہوگا

 

قدموں میں جبیں کو رھنے دو چہرے کا تصور مشکل ھے

جب چاند سے بڑھ کر ایڑی ھے تو رخسار کا عالم کیا ھوگا

 

اک سمت علیؓ اک سمت عمرؓ صدیقؓ اِدھر عثمانؓ ادھر

ان جگمگ جگمگ تاروں میں ماہتاب کا عالم کیا ہو گا

 

ؓجس وقت تھے خدمت میں ان کی ابو بکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علی

اس وقت رسول اکرم کے دربار کا عالم کیا ہوگا

 

چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی

یہ شان ہے ان کے غلاموں کی تو سرکار کا عالم ہو گا

 

کہتے ہیں عرب کے ذروں پر انوار کی بارش ہوتی ہے

اے نجم نہ جانے طیبہ کے گلزار کا عالم کیا ہوگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات