اردوئے معلیٰ

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے

خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا ہے

 

نکتہ چیں ! شوق سے دن رات مرے عیب نکال

کیونکہ جب عیب نکل جائیں ، ہنر بچتا ہے

 

سارے ڈر بس اس ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار

یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ہے

 

غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے طے کرنے کے بعد

صبح دم دیکھیں تو اُتنا ہی سفر بچتا ہے

 

روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دنیا والے

روز مر مر کے مرا خواب نگر بچتا ہے

 

بس یہی سوچ کے آیا ہوں تری چوکھٹ پر

در بدر ہونے کے بعد اِک یہی در بچتا ہے

 

اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے ، صاحب

شاذو نادر ہی کوئی اہل ہنر بچتا ہے

 

عشق وہ علم ِ ریاضی ہے کہ جس میں فارس

دو سے جب ایک نکالیں تو صفر بچتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات