جب ذکرِ نبی دل میں ضیا بار ہوا ہے

جب ذکرِ نبی دل میں ضیا بار ہوا ہے

سرکار کے انوار سے سرشار ہوا ہے

 

اک بار نہیں جب بھی پکارا ہے مدد کو

ہر بار کرم ان کا مددگار ہوا ہے

 

اک نعتِ نبی جب سے رواں ہے مرے لب پر

صحرا سا جہاں آپ سے گلزار ہوا ہے

 

خوش بخت زمانےمیں وہی لوگ ہوئے ہیں

آقا کے گھرانے سے جنھیں پیار ہوا ہے

 

دیتا ہو دعائیں کہ جو دشنام بھی سن کر

ایسا نہ کوئی صاحبِ کردار ہوا ہے

 

کیوں اپنے مقدرپہ کروں ناز نہ زاہدؔ؟

آقا کا تصور مرا غمخوار ہوا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ