اردوئے معلیٰ

Search

جب رخ پاک سے پردہ وہ ہٹا دیتے ہیں

بزم احساس کو جلوؤں سے سجا دیتے ہیں

 

سر جو اس در پہ عقیدت سے جھکا دیتے ہیں

میرے مرشد انہیں ذیشان بنا دیتے ہیں

 

شاہ نواب کو احوال سناکر دیکھو

کام بگڑے ہوئے جتنے ہیں بنا دیتے ہیں

 

غنچۂ دل مرا اک آن میں کھل جاتا ہے

اپنے دامن کی وہ جب ٹھنڈی ہوا دیتے ہیں

 

میرے نواب کی یہ شان کریمی دیکھو

سائلوں کو وہ طلب سے بھی سوا دیتے ہیں

 

پوچھتے کیا ہو مرے پیر کا رتبہ مجھ سے

رب کے جلوؤں کا وہ دیدار کرا دیتے ہیں

 

ہر گھڑی لیتے ہیں وہ اپنے غلاموں کی خبر

کون کہتا ہے کہ وہ ہم کو بھلا دیتے ہیں

 

جب وہ آتے ہیں سر بزم بصد ناز و ادا

ہم گذر گاہ میں دل اپنا بچھا دیتے ہیں

 

مانگنے کی کبھی زحمت نہیں کرنے دیتے

وہ تو بن مانگے ہی سب رب سے دلا دیتے ہیں

 

کوئے نواب کے ذروں کو بھی مت جان حقیر

ماہ و انجم کو وہ آئینہ دکھا دیتے ہیں

 

سیر وہ عالم بالا کی کیا کرتا ہے

نورؔ جس کو وہ نگاہوں سے پلا دیتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ