اردوئے معلیٰ

Search

جب سجاتا ہوں چراغِ شہِ لولاک سے طاق

آسماں لگتا ہے انوار کے الحاق سے طاق

 

جہاں خدامِ نبی رہتے ہوں ان جھونپڑوں میں

بادِ صر صر کو ہَرا دیتے ہیں خاشاک سے ، طاق

 

فیضِ سرکار، عقیدت کو بنا دے گا چراغ

ہم اگر پیدا کریں عشق میں ادراک سے طاق

 

اُس دئیے کی ، ہے پناہوں میں ، ہماری ظلمت

جس کی راہوں میں کھڑے رہتے ہیں ” افلاک سے” طاق

 

پھر سنوارے گا وہی دھند میں بکھری شامیں

ایک لحظے میں نکھر اٹھتے ہیں جس طاق سے طاق

 

روح کے دیپ کو دی نور محمد سے جِلا

پھر نوازا اِسے خالق نے حسیں خاک سے طاق

 

بادِ نفرین کبھی ان کے قریب آتی نہیں

جو ضیا بار کئے جاتے ہیں اخلاق سے طاق

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ