اردوئے معلیٰ

جب سے میرے ہاتھ آیا تیرا دامانِ کرم

دیکھتے ہیں حیرتوں سے مجھ کو یارانِ کرم

 

جب ہجومِ غم نے گھیرا ہے مجھے یا مصطفیٰ

کام آیا ہے فقط تیرا ہی فیضانِ کرم

 

میں اسیر دشت تیرہ ہوں سراسر یا رسول

تیری ہستی ہے سراپا مہرِ تابانِ کرم

 

تھا مقدر تجھ کو ہونا رحمۃ للعالمین

اس لیے آیا ترے حصے میں سامانِ کرم

 

تاجداروں کو نوازے اک نظر سے تو شہا

غیر ممکن ہے کوئی ہو تجھ سا انسانِ کرم

 

دھوم ہے کونین میں تیرے کرم کی چار سو

تیر ے خالق نے تجھے بخشی عجب شانِ کرم

 

نعمتیں کونین کی بٹتی ہیں جسکے ہاتھ سے

تو ہے وہ ابر کرم ، بحرِ کرم ، جانِ کرم

 

ہر تہی داماں نے آخر فیصلہ یہ کردیا

ہیں بھکاری تیرے در کے جو ہیں شاہانِ کرم

 

کر ہمارے سوکھے ہونٹوں کی طرف بھی اک نظر

ہم بھی ہیں آقا ترے ہی تشنہ کامانِ کرم

 

کوئی منگتا تیرے در سے کیسے خالی لوٹ جائے

خود ہی جب داتا بنائے تجھ کو دیّانِ کرم

 

کیا نہیں ہے بارگاہِ سرورِ کونین میں

ٹھوکریں کیوں دربدر کی کھائیں جویانِ کرم

 

مفلس و نادار و بیکس ٹوٹ کر پروانہ وار

آ گیے تیری گلی میں دیکھ کر خوانِ کرم

 

سامنے رکھ کر ترے کردار کا روشن ورق

ایک مضموں لکھ رہا ہوں میں بعنوان کرم

 

میں ترا ادنیٰ سوالی تو مرا داتا کریم

ڈال دے دامن میں جو تیرے ہو شایانِ کرم

 

ہوگیا تیرِ فراق و ہجر دل کے آر پار

نورؔ پر بھی ہو کرم اے جانِ جانانِ کرم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات