جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

مجھ سے بے مایہ کو خلقت میں پزیرائی ملی

 

ہو گئے جس دم تبسم ریز میرے مصطفیٰ

کھل اٹھا رنگِ چمن پھولوں کو رعنائی ملی

 

دم بہ دم رہتا ہے میرے لب پہ نامِ مصطفیٰ

اس لیے ہر ایک مشکل مجھ سے گھبرائی ملی

 

لب ملے ہیں چومنے کو نقشِ پائے مصطفیٰ

ذکر کرنے کو انہی کا مجھ کو گویائی ملی

 

ایک عالم ان کی خاکِ پا کا دیوانہ ملا

ایک دنیا ان کے شیدائی کی شیدائی ملی

 

جستجو کرتے ہوئے پہنچی جو میری زندگی

بارگاہِ مصطفیٰ میں میری تنہائی ملی

 

واپسی کا نام بھی لیتا نہیں ہے اب مجیبؔ

ان کے در پر جا کے دیوانے کو دانائی ملی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ