جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

مجھ سے بے مایہ کو خلقت میں پزیرائی ملی

 

ہو گئے جس دم تبسم ریز میرے مصطفیٰ

کھل اٹھا رنگِ چمن پھولوں کو رعنائی ملی

 

دم بہ دم رہتا ہے میرے لب پہ نامِ مصطفیٰ

اس لیے ہر ایک مشکل مجھ سے گھبرائی ملی

 

لب ملے ہیں چومنے کو نقشِ پائے مصطفیٰ

ذکر کرنے کو انہی کا مجھ کو گویائی ملی

 

ایک عالم ان کی خاکِ پا کا دیوانہ ملا

ایک دنیا ان کے شیدائی کی شیدائی ملی

 

جستجو کرتے ہوئے پہنچی جو میری زندگی

بارگاہِ مصطفیٰ میں میری تنہائی ملی

 

واپسی کا نام بھی لیتا نہیں ہے اب مجیبؔ

ان کے در پر جا کے دیوانے کو دانائی ملی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات