اردوئے معلیٰ

جب شامِ سفر تاریک ہوئی ، وہ چاند ہویدا اور ہوا​

جب شامِ سفر تاریک ہوئی ، وہ چاند ہویدا اور ہوا​

منزل کی لگن کچھ اور بڑھی ، دل زمزمہ پیرا اور ہوا​

 

جب کہر فضاوں پر چھائی ، جب صورتِ فردا دھندلائی​

منظر منظر سے جلوہ فشاں وہ گنبدِ خضرا اور ہوا​

 

ہر حال میں ان کی موجِ کرم تھی چارہ گرِ ادبار و الم​

حد سے گزری جب تلخی ء غم ، لطفِ شہِ بطحا اور ہوا​

 

جوں جوں وہ حرم نزدیک آیا ، کب نظارے کا یارا تھا​

جھکتی ہوئی نظریں اور جھکیں ، سوچوں میں اجالا اور ہوا​

 

اندازِ پذیرائی سے ہوا رنگ ان کی محبت کا گہرا​

رحمت کے دریچے اور کھلے ، مدحت کا تقاضا اور ہوا​

 

پہلے بھی اُس کی تابانی کچھ روئے زمیں پر کم تو نہ تھی​

جب ثور کی منزل سے گزرا ، اُس ماہ کا چرچا اور ہوا​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ