اردوئے معلیٰ

Search

جب وہ محبوب خدا بن کے پیمبر اترا

کاروانِ کرم و لطف زمیں پر اترا

 

آگیا اپنے جلو میں لیے انوارِ یقیں

فرش والوں کا جگانے وہ مقدر اترا

 

آئے میزان فضیلت سے نہ جانے کتنے

کون سلطان مدینہ کے برابر اترا

 

بحر وحدت کے شناور تو بہت ہیں لیکن

اتنی گہرائی میں کوئی نہ شناور اترا

 

رشک صد لعل و جواہر اسے دنیا نے کہا

غم سرکار کچھ ایسا مرے دل پر اترا

 

ہر طرف شور ہوا رحمت عالم آیا

مجمع حشر میں جب شافع محشر اترا

 

روشنی ایک بھی لمحے کو ٹھہرنا ہے محال

عشق احمد نہ اگر سینے کے اندر اترا

 

وقت نے اک نئی تاریخ رقم کر ڈالی

جنگ کے واسطے جب فاتح خیبر اترا

 

ڈھونڈ لیں گی انہیں لاکھوں میں بھی میری آنکھیں

سبز گنبد کا جن آنکھوں میں ہو منظر اترا

 

کوئی طوفاں نہ ملا بحر حوادث میں مجھے

نام سرکار کا میں نورؔ جو لے کر اترا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ