جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں

 

جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں

سر جھکاتا ہوں، ترے در پہ چلا آتا ہوں

 

بے یقینی کے اندھیروں میں چراغاں کے لیے

شمع مدحت کی جلاتا ہوں، ضیا پاتا ہوں

 

غم نہ کر، شہر محبت سے پیام آئے گا

ہجر میں دل کو اسے بات پہ ٹھہرتا ہوں

 

میں گنہگار کہاں، مدحت سرکار کہاں

بخت پر ناز ہے، اعمال پہ شرماتا ہوں

 

کملی والا مری تقدیر بدل دیتا ہے

ٹھوکریں کھاتا ہوں، ہر بار سنبھل جاتا ہوں

 

رات ڈھلتی ہے تو میں شہر شہِ دیں کی طرف

تحفۂ صلِؐ علی بھیج کے سو جاتا ہوں

 

قاسمِ نعمتِ حق ہیں میرے آقاؐ اخترؔ

نعمت حق وہ کھلاتے ہیں تو میں کھاتا ہوں

 

میرے آبا کا شرف اُن کی غلامی اخترؔ

میں تو بچپن سے اس اعزاز پہ اتراتا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا
کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
نبی کے برابر ہوا ہے نہ ہو گا
آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں
آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں
وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے
خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا
واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا