جب کسی غم نے بے قرار کیا

جب کسی غم نے بے قرار کیا

چشمِ رحمت کا انتظار کیا

 

رات گہری تھی، میں اکیلا تھا

آپ کا ذکر بار بار کیا

 

تیرے خالق نے تیری صورت میں

اپنی قدرت کو آشکار کیا

 

شعر میں آپ کی ثنا لکھی

ہم نے اس فن کو باوقار کیا

 

ہر گھڑی، ہر دعا میں یاد رکھا

ہم غریبوں سے اتنا پیار کیا

 

آپ کو اختیار تھا اخترؔ

آپ نے فقر اختیار کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ