جب گلشن حیات میں سرکار آ گیے

جب گلشن حیات میں سرکار آ گئے

مہکی فضا ، شباب پہ گلزار آ گئے

 

نعت رسول پاک کا نغمہ جو چھڑ گیا

وجد و طرب میں ثابت و سیار آ گئے

 

اب دیکھنا یتیموں کے چہروں کی رونقیں

نادار و ناتواں کے طرفدار آ گئے

 

آمد سے ان کی دہر کا نقشہ بدل گیا

تاریکیاں ہیں ختم پہ ، انوار آ گئے

 

سرشاریاں ہیں رقص میں، خوش بختیاں نثار

شہر نبی میں طالب دیدار آ گئے

 

تم کو نبی کے عشق کی باتوں سے کیا غرض

تم بزم نعت پاک میں بے کار آ گئے

 

اے نورؔ ہر کمال ہے جن کے قدم کی دھول

وہ صاحب کمال و خوش اطوار آ گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے
دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
شاہا ! سُخن کو نکہتِ کوئے جناں میں رکھ
اور کیا چاہیے بندے کو عنایات کے بعد
محظوظ ہو رہے ہیں وہ کیفِ طہور سے
عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے
ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں
کر کے رب کی بندگی خاموش رہ
یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

اشتہارات