جب ہم ملے

جن دنوں ہماری زندگی کا واحد مقصد ایک عدد گاڑی کی تلاش ہوا کرتا تھا کہ بس کسی طرح کسی کیری ڈبے کا بندوبست ہو جائے اور ہم اس آفت کار اور مردم بیزار قسم کی گاڑی میں اپنی جان جہاں نما سمو ڈالیں ـ
یہ ان ہی دنوں کی بات ہے ـ
ایک زمانے میں ہم تن تنہا پروفیشنل زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما تھے اور ہماری دیکھا دیکھی ہمارے تربیلہ کی پیاری شہزادیوں نے بھی حوصلہ پکڑا اور اس میدان کارزار میں چھلانگ لگا دی جسے ہم ” کالج ” کہتے ہیں ـ
اور اسطرح ہم جو اکیلے گاڑیوں کے بیگار میں خوار ہوا کرتے تھے ہماری خواری میں حصہ بٹھانے کو وہ بھی آن شامل ہوئیں ـ
سردیاں ہماری وہ محبوبہ ہیں جو جان لے کے ٹلتی ہیں لیکن ہمیں بھی تمام محبوں کی طرح اس ناز نخرے اداؤں والی محبوبہ کو دل سے قریب رکھنے کا وبال لاحق ہے ـ
ایسی ہی وبال جان سردیوں کی صبح جب بہتی ناک اور سرخ آنکھوں سے ہم نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور دو شدید حسیناؤں پہ نگاہ غلط انداز ڈالے بغیر اپنی وولن شال کا پلو کھینچ کے چہرے پہ ڈال کے پاؤں انکی سیٹ سے ٹکا کے ہم پورے ایک گھنٹے کی مسافت میں بظاہر سوئے رہے اور وہ ایک دوسرے کے کانوں میں پورا راستہ کھسر پھسر کرتی رہیں ـ
ہمارا سماعتی نظام ہمیں عین اسوقت دھوکا دے جاتا ہے جب ہم پوری دنیا سے کٹ کر اپنے اندر کی دنیا کو سجا کے بیٹھ جاتے ہیں ـ
اس عمل کے فوائد و نقصانات دونوں نے ہمیں تا عمر ستائے رکھا لیکن کچھ عادتیں پختہ ہو جائیں تو جان لے کے ٹلتی ہیں ـ
باہر کی دنیا ہمیں عجوبہ روزگار سمجھتی ہے ہم کسی ملکہ کی طرح اپنے دل کی دنیا پہ خود ہی راج کرنے میں خوار ہوئے پھرتے ہیں ـ باہر دنیا تھو تھو کرنے میں مشغول ہم انجان ـ ہمیں دنیا سے لینا دینا ہی کیا ہے ـ
کچھ دن ایسے ہی گزرے صبح ہم ہوا کے راستوں کو بند کیے اونی شال سے منہ ڈھک کے جاتے اور چھٹی کے وقت ان دونوں کا بھر پور جائزہ لے کے سر نیہوڑا کے سو جاتے ـ
وہ جو دس کی جوڑی تھی اسکے انداز ہی نرالے تھے ـ
پنسل ہیل میں ٹک ٹک کرتی پتھر حجر دریا پہاڑ سب پہ اسی روانی اور آسانی سے چلتی لبنی’ جاوید ـ چھوٹے سے قد میں آفت قیامت تباہی ـ
جسے میں نے شروع میں دو بچوں کی اماں سمجھ کے لسٹ سے خارج کر دیا تھا کہ یار یہ پکائے گی سارا دن سسرالیوں کے جھنجھٹوں کے قصے سنایا کرے گی اس سے بات نہیں کرنی ـ
اسی لبنی نے میرے پنکھے کے دشمن ہونے پہ ناک بھوں چڑھائی تو میں بہت اترائی کہ دیکھا میں بالکل صحیح تھی ـ یہ خاتون ایسی ہی ہیں ـ
اور پھر اچانک میں نے انھیں کسی غزل پہ اس محویت سے سر دھنتے دیکھا کہ مجھے اس سے محبت ہو گئی ـ
دنیا سے کٹ کر چھوٹے بچوں کے سے اشتیاق سے وہ آنکھیں بند کیے سر ہلاتی جاتی اور چند منٹ بعد آنکھیں کھول کے ساتھ والی کو پورے دل سے بتاتی …
اللہ عاشی اسکا ڈرامہ دیکھو ـ
یہ ڈائیلاگ میں نےایک ہفتہ مسلسل سنا اور پھر میں نے اسے چھیڑ دیا ـ
کیسا ہے ڈرامہ؟ .
اجنبیت کہیں پل بھر میں ہوا ہو گئی تھی ـ
اللہ سمیرا بہت اچھا
کیا تنہائیاں جتنا؟
دھوپ کنارے جیسا؟ ؟
اور ہم دونوں سب بھول گئیں …..میں اپنا سونا اور وہ عاشی کےکان میں گھس گھس کے غیبتیں کرنا
ہم نے اپنے بچپن کی کتاب کے اوراق ادھیڑ ڈالے ….
ارے تب جب عینک والا.جن لگتا تھا
اور وہ تب جب چچا تارڑ آتے تھے اور اسکول سے دیر ہوا کرتی تھی
اور تب بھی جب پانڈا آئس کریم پانچ روپے کی ہوتی تھی کس قدر مہنگی لگا کرتی تھی
ارے ارے لبنی جب ہم گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے
میں نے عاشی کو مائنس کر دیا اور میں نے اور لبنی نے دوستی جما لی ـ
ایسی دوستی کہ گاڑی میں آنے جانے کے دو گھنٹے بس ہمارے ہوتے
میں بولتی جاتی وہ سر دھنتی خوبصورت قہقہے لگاتی دھڑا دھڑ بچوں کےبپیپرز چیک کیے جاتی ـ
یہ راز آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ چلتی گاڑی میں وہ ان باریک سے باریک غلطیوں کو بھی کیسے نکال لیا کرتی تھی ـ
ہمہ وقت حاضر دماغ ‘ فریش اور ہیل ٹکاتی لبنی سے میری دوستی کچھ یوں ہوئی ـ
( جاری ہے )
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سفر (حصہ اول)
میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
سفر (حصہ دوم)
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
چرواہا
پانچویں ملاقات
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
راول کا پنڈ ' راولپنڈی
پکارا ہم نے جو " اُن " کو
اجنبی ملاقات