اردوئے معلیٰ

جذبۂ شوق! انتہا کر دے

ہر تمنا کو بے صدا کر دے

 

قید اپنی انا کے بُت میں ہوں

کوئی توڑے مجھے رہا کر دے

 

عمر گزری مری کٹہرے میں

زندگی اب تو فیصلہ کر دے

 

قد گھٹا دے مری نظر میں مرا

یا الٰہیٰ مجھے بڑا کر دے

 

فخر کرتی ہے آدمی پہ حیات

جب کسی کا کوئی بھلا کر دے

 

میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ

کوئی میرے لئے دعا کر دے

 

ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر

بے نواؤں کو ہم نوا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات