اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

جذبۂ شوق! انتہا کر دے

جذبۂ شوق! انتہا کر دے

ہر تمنا کو بے صدا کر دے

 

قید اپنی انا کے بُت میں ہوں

کوئی توڑے مجھے رہا کر دے

 

عمر گزری مری کٹہرے میں

زندگی اب تو فیصلہ کر دے

 

قد گھٹا دے مری نظر میں مرا

یا الٰہیٰ مجھے بڑا کر دے

 

فخر کرتی ہے آدمی پہ حیات

جب کسی کا کوئی بھلا کر دے

 

میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ

کوئی میرے لئے دعا کر دے

 

ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر

بے نواؤں کو ہم نوا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں
مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا