جذبۂ عشقِ شہِ ہر دو سرا ہے کہ نہیں

جذبۂ عشقِ شہِ ہر دو سرا ہے کہ نہیں

دیکھیے دل کو مسلمان ہوا ہے کہ نہیں

 

کون سا زیست میں وہ تلخ مزا ہے کہ نہیں

ایسے جینے سے تو مرنا ہی بھلا ہے کہ نہیں

 

میری ہر بات پہ تم نے جو کہا ہے کہ نہیں

خود ہی سوچو یہی جھگڑے کی بنا ہے کہ نہیں

 

حوصلہ ہے کہ میں محرومِ بیاں رکھتا ہوں

کون سا تجھ سے مجھے ورنہ گِلہ ہے کہ نہیں

 

اس قدر مشقِ ستم دل پہ عیاذاً باللہ

ارے ظالم تجھے کچھ خوفِ خدا ہے کہ نہیں

 

وائے تقدیر سنبھلتا ہی نہیں حالِ نظرؔ

کون سی ورنہ دوا اور دعا ہے کہ نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ھمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ھے
تِرے علاقوں پہ یار قبضہ بزورِ طاقت نہیں کرینگے
مرا محبت میں ساتھ دو گے، تو کیا یہ طے تھا؟ یا طے نہیں تھا؟
معلوم ہے جناب کا مطلب کچھ اور ہے
تُو حکم کر ، نہ جاؤں تو جو چور کی سزا
لے آنکھ موند لی دمِ دیدار، اور حُکم ؟
دے نہیں سکتا جنوں یوں تو کوئی تاویل تک
قافلے یا راستے یا نقش ِ پا کچھ بھی نہیں
وقت جیسے کٹ رہا ہو جسم سے کٹ کر مرے