اردوئے معلیٰ

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے

 

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے

مسلماں نہیں ہے، مسلماں نہیں ہے

 

نہ ہوں جس میں نور نبی کی ضیائیں

وہ ایماں نہیں ہے وہ ایماں نہیں ہے

 

نہ ہو جس میں دید مدینہ کا اماں

وہ دل دل نہیں ہے، وہ جاں جاں نہیں ہے

 

وہی تو ہیں وجہ بنائے دو عالم

بھلا ان کا کس شے پہ احساں نہیں ہے

 

رسائی نہیں اس کی ذات خدا تک

جسے ذات احمد کا عرفاں نہیں ہے

 

انہیں کی ضیائیں ہیں کون و مکاں میں

کہاں یہ تجلی فروزاں نہیں ہے

 

پڑھوں نعت بہزاد طیبہ میں جا کر

بجز اس کے اب کوئی ارماں نہیں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ