اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

جسے مانگتا ہوں میں ہر دعا کی اخیر تک

جسے مانگتا ہوں میں ہر دعا کی اخیر تک

مرے ذائچے کی وہ ابتدا نہیں ہو رہا

 

تجھے بھولنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں

تجھے یاد کرنے کا سلسلہ تو کمال تھا

 

میں اُسی کے ہاتھ میں دے چکا ہوں وجود بھی

مجھے لے اُڑا ہے مگر ہوا نہیں ہو رہا

 

مری بے بسی، مری بے کسی، مرے حوصلے

مری آرزو، مری آبرو، مری جستجو

 

کوئی عہد اُس نے کیا نہیں سو برا نہیں

مرا بد گماں ابھی بے وفا نہیں ہو رہا

 

مرے خواب بکھرے پڑے ہوئے تھے اندھیر میں

سو مری نگاہ کی روشنی کو چرا لیا

 

تجھے سوچ سوچ کے سوچ، سوچ میں پڑ گئی

نا خبر ہوئی میں یہاں، وہاں سے کدھر گیا

 

ابھی کس طرح سے پلک جھپکنے کا سوچ لوں

کہ وہ شخص مجھ سے ابھی جدا نہیں ہو رہا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپ کی آنکھیں سمندر کیا ہوئیں
آنکھ میں ہی ٹھہر گیا دریا
زخم ایسا نشاں میں آئے گا
ماں کے نام
سمندرِ غم کے پار ہو کر، اُداس ہو کر
مری بربادیاں یہ کہہ رہی ہیں
چلو اداسی کے پار جائیں
زینؔ تاروں کا رازداں ہوں میں
یوں تو ہر طور سے جینے کا کمال آتا ہے
چند لمحوں کا ہے زوال مرا