اردوئے معلیٰ

جس بزم میں ذکرِ دلِ مغموم نہیں ہے

ترتیب ہی اُس بزم کا مقسوم نہیں ہے

 

ہم اہلِ وفا جادۃٔ الفت کے لیے ہیں

اے رہبرِ منزل تجھے معلوم نہیں ہے

 

گو سلسلہِ مہر و وفا ختم ہے ، لیکن

دل ان کی عنایات سے محروم نہیں ہے

 

پیدا تو کرے کوئی شعورِ نگہِ شوق

جلووں کی کمی اے دلِ مغموم نہیں ہے

 

تم اپنا تبسم مرے اشکوں میں سمو دو

رونے کا سلیقہ مجھے معلوم نہیں ہے

 

کانٹے نہ اگر ساتھ ہوں اے اہلِ گلستاں

پھولوں کا چمن میں کوئی مفہوم نہیں ہے

 

وہ آج سحرؔ کس لیے بیزارِ وفا ہیں

آسودۂ غم کیا دلِ مغموم نہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات