جس جگہ آپؐ کے قدموں کے نشاں ہوتے ہیں

جس جگہ آپؐ کے قدموں کے نشاں ہوتے ہیں

اس جگہ پیدا نئے کون و مکاں ہوتے ہیں

 

آپؐ کی یاد سے دِل میں ہے چراغاں کا سماں

آپؐ ہی راحتِ جاں، فیض رساں ہوتے ہیں

 

رُوبرو رکھتے ہیں وہ چہرۂ زیبائے رسولؐ

اُنؐ کے دیوانے ہیں جیسے بھی، جہاں ہوتے ہیں

 

آپؐ کے ایک اشارے سے سِرک جاتے ہیں

راہِ عُشاق میں جو سنگِ گراں ہوتے ہیں

 

جو غلامانِ شہِ والاؐ، گدا اُنؐ کے ہیں

راز سربستہ نہاں، اُن پہ عیاں ہوتے ہیں

 

آج پھر معرکۂ کرب و بلا برپا ہے

پھر مجاہد سوئے بغداد رواں ہوتے ہیں

 

عاشقانِ شہِ ابرارؐ کی پہچان ہے یہ

سوختہ جان ظفرؔ! سیف زباں ہوتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
مجھے الفاظ کی خیرات عطا کر
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
نعت سرکارؐ جا بجا کہیے
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
مری آنکھوں کا نُور صلِ علیٰ
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
آپؐ کے دم سے میری عزت ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
زمین و آسماں میں دُور تک نہ تھی محبت

اشتہارات