اردوئے معلیٰ

جس جگہ آپ کے قدموں کے نشاں ہوتے ہیں

اس جگہ پیدا نئے کون و مکاں ہوتے ہیں

 

آپ کی یاد سے دِل میں ہے چراغاں کا سماں

آپ ہی راحتِ جاں، فیض رساں ہوتے ہیں

 

رُوبرو رکھتے ہیں وہ چہرۂ زیبائے رسول

اُن کے دیوانے ہیں جیسے بھی، جہاں ہوتے ہیں

 

آپ کے ایک اشارے سے سِرک جاتے ہیں

راہِ عُشاق میں جو سنگِ گراں ہوتے ہیں

 

جو غلامانِ شہِ والا، گدا اُن کے ہیں

راز سربستہ نہاں، اُن پہ عیاں ہوتے ہیں

 

آج پھر معرکۂ کرب و بلا برپا ہے

پھر مجاہد سوئے بغداد رواں ہوتے ہیں

 

عاشقانِ شہِ ابرار کی پہچان ہے یہ

سوختہ جان ظفرؔ! سیف زباں ہوتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ