اردوئے معلیٰ

Search

جس طرف ہر زماں رواں ہو گا

وہ محمد کا آستاں ہو گا

 

آپ کے در پہ موجزن ہر دم

پیار کا بحرِ بے کراں ہو گا

 

رنگ و نکہت، جمال کا مرکز

اُن کی اُمت کا گُلستاں ہو گا

 

شبِ معراج، عرشِ اعظم پر

ہر طرف نور کا سماں ہو گا

 

ڈھانپ لے گا جو ساری اُمت کو

اُن کی رحمت کا سائباں ہو گا

 

وہ جو طائف کی آنکھ نے دیکھا

وہ سماں، کیسا خونچکاں ہو گا

 

دِل میں یادِ نبی ظفرؔ ہر دم

ذِکرِ سرکار، حرزِ جاں ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ