جس طرف ہر زماں رواں ہو گا

جس طرف ہر زماں رواں ہو گا

وہ محمد کا آستاں ہو گا

 

آپ کے در پہ موجزن ہر دم

پیار کا بحرِ بے کراں ہو گا

 

رنگ و نکہت، جمال کا مرکز

اُن کی اُمت کا گُلستاں ہو گا

 

شبِ معراج، عرشِ اعظم پر

ہر طرف نور کا سماں ہو گا

 

ڈھانپ لے گا جو ساری اُمت کو

اُن کی رحمت کا سائباں ہو گا

 

وہ جو طائف کی آنکھ نے دیکھا

وہ سماں، کیسا خونچکاں ہو گا

 

دِل میں یادِ نبی ظفرؔ ہر دم

ذِکرِ سرکار، حرزِ جاں ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ