اردوئے معلیٰ

Search

جس میں ہو تیری رضا ایسا ترانہ دے دے

اپنے محبوب کی نعتوں کا خزانہ دے دے

 

شہرِ مکّہ میں مجھے گھر کوئی مِل جائے یا پھر

شہرِ طیبہ کی مجھے جائے یگانہ دے دے

 

اُن کی نعلین کروں صاف یہی حسرت ہے

ربِّ عالم مجھے اِک ایسا زمانہ دے دے

 

نوکری تیری کروں آئینہ کرداری سے

اُجرتِ خاص مجھے ربِّ زمانہ دے دے

 

آج تک مجھ کو سنبھالا ہے کرم نے تیرے

جب میں گرنے لگوں آکر کوئی شانہ دے دے

 

ہو رضا جس میں تری اور تیرے پیارے کی

حمد اور نعت مجھے ایسی یگانہ دے دے

 

سادگی کا مجھے پیکر کہیں دنیا والے

زندگی ایسی ، مرے مولا ! شہانہ دے دے

 

حجِ مبرور کی حاصل ہو سعادت مجھ کو

حاضری کا مجھے اِک خاص بہانہ دے دے

 

یاد آتے ہیں مناظر وہی نوری مجھ کو

اُن مناظر کا مجھے آئینہ خانہ دے دے

 

آئینہ جیسا ہو کردار جہاں میں میرا

رحمتوں والا مجھے آب دے دانہ دے دے

 

ظلم سہتے ہیں فلسطینی نہتے بے بس

یہ ہیں بے گھر مرے مولا انہیں خانہ دے دے

 

خواہشِ طاہرؔ سلطانی یہی ہے مولا

عشقِ سرکارِ دو عالم کا خزانہ دے دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ