اردوئے معلیٰ

جس نے سرکارِ دو عالم کا زمانہ دیکھا

اس کی آنکھوں نے کوئی ان کے سوا نہ دیکھا

 

جس کا سرکار کے دربار پہ جانا دیکھا

اس کے دامن میں تو رحمت کا خزانہ دیکھا

 

خُلق سرکار کا ہے سب سے بلند اور عظیم

برلبِ دشمنِ جاں بھی یہ ترانہ دیکھا

 

دین کی شمع جلائے جو لہو سے اپنے

پنجتن کا ہی فقط ایسا گھرانہ دیکھا

 

شہر تو اور بھی دیکھے ہیں جہاں میں آصف

شہر، طیبہ سا بھی کیا تم نے سہانا دیکھا؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات