جس نے سرکارِ دو عالم کا زمانہ دیکھا

جس نے سرکارِ دو عالم کا زمانہ دیکھا

اس کی آنکھوں نے کوئی ان کے سوا نہ دیکھا

 

جس کا سرکار کے دربار پہ جانا دیکھا

اس کے دامن میں تو رحمت کا خزانہ دیکھا

 

خُلق سرکار کا ہے سب سے بلند اور عظیم

برلبِ دشمنِ جاں بھی یہ ترانہ دیکھا

 

دین کی شمع جلائے جو لہو سے اپنے

پنجتن کا ہی فقط ایسا گھرانہ دیکھا

 

شہر تو اور بھی دیکھے ہیں جہاں میں آصف

شہر، طیبہ سا بھی کیا تم نے سہانا دیکھا؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات