اردوئے معلیٰ

جس وقت کہ آ جائے مری جان لبوں پر

اسمِ شہہ بطحا کی ہو گردان لبوں پر

 

ہر سانس ہو مشغولِ ثنائے شہہ والا

ہو جذبۂ حسان کا فیضان لبوں پر

 

دکھلایا تصور نے جو سرکار کا روضہ

کلیوں کی طرح کِھل گئی مسکان لبوں پر

 

ہو ورد زباں صلی علیٰ آل محمد

یوں ذوق مودت کا ہو اعلان لبوں پر

 

قربان رخ پاک پہ تاروں کا تبسم

گلبرگ تصدق ترے ذیشان لبوں پر

 

کوثر کے ملیں جام ترے دست عطا سے

رہ رہ کے مچلتا ہے یہ ارمان لبوں پر

 

تا عمر پریشاں نہ کرے گی کوئی مشکل

رکھ تذکرۂ صاحب قرآن لبوں پر

 

آجائے صدف کو ہنر نعت نگاری

اللہ! دعا ہے یہی ہر آن لبوں پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات