جس کا قصیدہ خالقِ عرش بریں کہے

جس کا قصیدہ خالقِ عرش بریں کہے

ایسا حسین حُسن بھی جس کو حسیں کہے

 

ہے ماورائے عقل و خرد ان کا مرتبہ

ذات ان کی بے مثال ہے رُوح الامیں کہے

 

قرآں کے حرف حرف میں انھی کی نعت ہے

یزداں اسے کلام میں مہر مبیں کہے

 

پڑھتے ہیں آسماں پر فرشتے بھی جب درود

ان پر سلام کیسے نہ پھر یہ زمیں کہے

 

فرمان، حق کا ہے تجھے سجدہ روا نہیں

ہر چند بار بار خمیدہ جبیں کہے

 

نقوی کو ایسا شیوہؔ گفتار ہو عطا

جس وقت بھی وہ نعت کہے دلنشیں کہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

الفاظ جھوم کر یوں قلم سے رواں ہوئے
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
قلم سے پھول سجا کر دعا کے لے آیا
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
ہر گھڑی، ہر دَم عطا ہے آئیے طیبہ چلیں
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
بزمِ ہستی کے روحِ رواں آپ ہیں
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
اے کاش! ہم بھی ہوں درِ انور کے سامنے
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے