اردوئے معلیٰ

Search

جس کا مشتاق ہے خود عرش بریں آج کی رات

ام ہانی کے وہ گھر میں ہے مکیں آج کی رات

 

آنکھ میں عرض تمنا کی جھلک لب پہ درود

آئے اس شان سے جبریل امیں آج کی رات

 

سارے نبیوں کے ہیں جھرمٹ میں نبیٔ آخر

قابل دید ہے اقصیٰ کی زمیں آج کی رات

 

نور کی گرد اڑاتا ہوا پہنچا جو براق

رہ گزر بن گئی تاروں کی جبیں آج کی رات

 

اک مقام آیا کہ جبریل کا بھی ساتھ چھٹا

وہ ہیں اور سلسلۂ نور مبیں آج کی رات

 

عالم قدس کے اسرار کوئی کیا جانے

وہ ہی وہ ہیں نہ زماں ہے نہ زمیں آج کی رات

 

مسکرائے جو نبی دیکھ کے جنت کی طرف

اور بھی ہو گئی فردوس حسیں آج کی رات

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ