جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں

جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں

ایسا تو کائنات میں پھول کہیں کھلا نہیں

 

کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا کا نام لے

ان کی گلی کا راستہ کعبہ سے تو جدا نہیں

 

دامن ہی جس کا تنگ ہو اس کا گلہ فضول ہے

ورنہ درِ رسول سے کس کو سوا ملا نہیں

 

سینے میں ان کی یاد ہو آنکھوں میں ان کی روشنی

اِس آرزو کے بعد تو کوئی بھی التجا نہیں

 

بھیجے خدا نے ان گنت بزم جہاں میں انبیاء

لیکن مرے حضور سا کوئی بھی دوسرا نہیں

 

اپنے کرم کی بھیک سے مجھ کو بھی سرفراز کر

تیرے سوا کوئی میرا دکھ درد آشنا نہیں

 

یوں تو کھلے تھے آسؔ کے سینے میں پھول سینکڑوں

آنکھوں میں آپ کے سوا کوئی مگر جچا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ