جس کو عورت کا احترام نہ ہو

جس کو عورت کا احترام نہ ہو

مجھ سے وہ شخص ہم کلام نہ ہو

 

میری خواہش ہے عشق ہو مجھ کو

اور پھر اور کوئی کام نہ ہو

 

جل ہی جائے ہوا ستمبر کی

کوئی اتنا سبک خرام نہ ہو

 

عام لوگوں کو بھی میسر ہے

اس سے کہنا کہ اور عام نہ ہو

 

بزدلوں کی بناو فہرستیں

یاد رکھنا کہ میرا نام نہ ہو

 

ہر کوئی بات کو ترستا ہے

کوئی مجھ جیسا خوش کلام نہ ہو

 

لاکھ پوجیں اسے حسینائیں

پر وہ پتھر کسی سے رام نہ ہو

 

مجھ سے برداشت ہو نہیں سکتا

زندگی اور بے لگام نہ ہو

 

اس جگہ کیا رکیں ، جہاں کومل

چائے پانی کا انتظام نہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ