جس کو عورت کا احترام نہ ہو

جس کو عورت کا احترام نہ ہو

مجھ سے وہ شخص ہم کلام نہ ہو

 

میری خواہش ہے عشق ہو مجھ کو

اور پھر اور کوئی کام نہ ہو

 

جل ہی جائے ہوا ستمبر کی

کوئی اتنا سبک خرام نہ ہو

 

عام لوگوں کو بھی میسر ہے

اس سے کہنا کہ اور عام نہ ہو

 

بزدلوں کی بناو فہرستیں

یاد رکھنا کہ میرا نام نہ ہو

 

ہر کوئی بات کو ترستا ہے

کوئی مجھ جیسا خوش کلام نہ ہو

 

لاکھ پوجیں اسے حسینائیں

پر وہ پتھر کسی سے رام نہ ہو

 

مجھ سے برداشت ہو نہیں سکتا

زندگی اور بے لگام نہ ہو

 

اس جگہ کیا رکیں ، جہاں کومل

چائے پانی کا انتظام نہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا
ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے