جس کی تصویر ہے اِس دلِ پاک میں

جس کی تصویر ہے اِس دلِ پاک میں

اشک بن کر رہا چشمِ نمناک میں

 

نظم میں خواب تیرا ، غزل میں خیال

اِک دیا بام پر ، اِک دیا طاق میں

 

خود کو پرواز سے باز رکھنا پڑا

تھے شکاری مسلسل مِری تاک میں

 

کس تپش سے جلا آشیانِ وجود

ہوگا کوئی شرارہ بجھی راکھ میں

 

شعر کے فن میں کیا مرتضیٰ کی بساط

کیسے کیسے گہر مل گئے خاک میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ