جس کی تصویر ہے اِس دلِ پاک میں

جس کی تصویر ہے اِس دلِ پاک میں

اشک بن کر رہا چشمِ نمناک میں

 

نظم میں خواب تیرا ، غزل میں خیال

اِک دیا بام پر ، اِک دیا طاق میں

 

خود کو پرواز سے باز رکھنا پڑا

تھے شکاری مسلسل مِری تاک میں

 

کس تپش سے جلا آشیانِ وجود

ہوگا کوئی شرارہ بجھی راکھ میں

 

شعر کے فن میں کیا مرتضیٰ کی بساط

کیسے کیسے گہر مل گئے خاک میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے
محور
اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے

اشتہارات