اردوئے معلیٰ

’’جس کی تنہائی میں وہ شمعِ شبستانی ہے‘‘

 

’’جس کی تنہائی میں وہ شمعِ شبستانی ہے‘‘

اُس کا ہر تارِ نفَس مثلِ قمر نورانی ہے

وہ تو کہلاتی ہے انوار کے برسات کی رات

’’رشکِ صد بزم ہے اُس رندِ خرابات کی رات‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ