اردوئے معلیٰ

Search

جس کی نظروں میں زرِ پائے پیمبر چمکے

سامنے اُس کے نہ گنجینۂ گوہر چمکے

 

بخت ذرّے کے جو یاور ہوں ، عرب تک پہنچے

خاکِ طیبہ سے لگے، مہر سے بڑھ کر چمکے

 

رُوبُرو گنبدِ خَضرا کے پہنچ جاؤں اگر

مجھ زیاں کار کا بھی نقشِ مقدّر چمکے

 

ذہن میں دشتِ مدینہ کا تصوّر آیا

پُھول اُلفت کے مِری شاخِ نظر پر چمکے

 

جب بھی آیا ہے کوئی زائرِ طیبہ واپس

کتنے تارے مِری پلکوں کے اُفق پر چمکے

 

آپ کے فیض سے ہم خلق میں اشرف ٹھہرے

آپ کے نور سے یہ خاک کا پیکر چمکے

 

دن پہ بھی رات کا منظر تھا مسلّط پہلے

رُوئے پُرنور سے ہر صبح کے تیور چمکے

 

ذکر اُن کا ہے تو ہر لب کا مقدّر بن جائے

یاد اُن کی ہے تو سِینوں میں اُتر کر چمکے

 

اُس کو اللہ ولی کہہ کے مراتب بخشے

ان کی سیرت جو کسی شخص کے اندر چمکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ