اردوئے معلیٰ

 

جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا

دیواں میں شعر گر نہیں نعت رسول کا

 

حق کی طلب کی ہے ، کچھ تو محمد پرست ہو

ایسا وسیلہ ہے یہ خدا کے وصول کا

 

مطلوب ہے زمان و مکان و جہان سے

محبوب ہے خدا کا، فلک کا عقول کا

 

جن مردماں کو آنکھیں دیاں ہیں خدا نے دے

سرمہ کریں ہیں رہ کے تری خاک و دھول کا

 

مقصود ہے علی کا دل کا، سبھی کا تو

ہے قصد سب کو تیری رضا کے حصول کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات