اردوئے معلیٰ

 

جلوے مرے محبوب دکھانے کے لیے آ

یہ بزم جہاں پھر سے سجانے کے لیے آ

 

یہ عالمِ ہستی تو سجی ترے لیے ہے

اس بار جو آئے تو نہ جانے کے لیے آ

 

رہتا ہوں مدینہ میں، مدینہ ہے مرا دل

آنکھوں کی مری پیاس بجھانے کے لیے آ

 

دیکھیں ترے کردار و عمل میں تری اُمت

آنکھوں پہ ہیں پردے جو، اُٹھانے کے لیے آ

 

جیون کی کڑی دھوپ میں پیاسے ہیں نبی گل

ایمان ہمیں پھر سے پلانے کے لیے آ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات