اردوئے معلیٰ

جمال و حسنِ رسالت مآب دیکھتے ہیں

جمال و حسنِ رسالت مآب دیکھتے ہیں

جو دل کی آنکھوں سے اُم الکتاب دیکھتے ہیں

 

لِقائے روئے مبارک کا خواب دیکھتے ہیں

حضور ! ہم بھی بصد اضطراب دیکھتے ہیں

 

اگرچہ ہجر کے کانٹوں سے زخم زخم ہے دل

بچشمِ روح، حرم کے گلاب دیکھتے ہیں

 

خوشا کہ آنکھوں میں اس طرح بس گیا طیبہ

بہر نظر بَلَدِ لاجواب دیکھتے ہیں

 

ہم ایسے ہجر زدہ، زائرینِ طیبہ کو

بصد خلوص، بچشمِ پُر آب دیکھتے ہیں

 

اُن عاشقانِ نبی پر ہوں جان و دل قرباں

جو دور رہ کے اُنہیں بے نقاب دیکھتے ہیں

 

عزیزؔ کاش! میں اُن پا شکستگاں میں رہوں

جو خود کو ہجر میں بھی باریاب دیکھتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ