جنوں پسند بھی ہوں اور ‘ خاک بھی کہیں اُڑا نہیں رہا

جنوں پسند بھی ہوں اور ‘ خاک بھی کہیں اُڑا نہیں رہا

میں صرف دشت یاد کر رہا ہوں روز’ دشت جا نہیں رہا

 

لکیریں کھینچ کھینچ وقت کی سلیٹ پر ہوئے جو ہاتھ شل

حساب کر رہا ہوں ‘ کیا رہا ہے پاس میرے ؟ کیا نہیں رہا

 

مباحثوں مذاکروں شکایتوں سے شان ِ ہجر مت گھٹا

تو صاف جانتا ہے’ میں ترا نہیں ہوں ، تُو مِرا نہیں رہا

 

کوئی اَلاو ہے’ بہاو ہے’ کھنچاو ہے ‘ نہ کوئی گھاو ہے

مزہ جو آنا چاہیے تھا ہجر میں’ ہمیں وہ آ نہیں رہا

 

مِرے خیال سے یہ دکھ بچھڑنے کے لیے بڑا مفید ہے

ہمارا ہنسنا ایک ہے ‘ ہمارا رونا ایک سا نہیں رہا

 

کہیں بدن لپیٹ کر رکھا ‘ کہیں پہ روح کو سمیٹ کر

تھکن کا سلسلہ قدیم ہے’ مِرے لیے نیا نہیں رہا

 

ہمارے جسم ہی نہیں’ تپاک سے گلے مِلے ہیں اِسم بھی

یہ وہ مقام ہے’ زمین و آسماں میں فاصلہ نہیں رہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ