جن و انساں اور قدسی آپؐ کے مشتاق ہیں

 

جن و انساں اور قدسی آپؐ کے مشتاق ہیں

آپؐ ہیں مطلوبِ عالم، راحتِ عشاق ہیں

 

ہو نہیں سکتے رقم اوصافِ حسنہ بالیقیں

آپؐ ہیں خیر الوریٰ، گنجینہء اخلاق ہیں

 

آپؐ ہیں کونین میں سب سے حسیں یا سیدیؐ

آیتِ ’’فی احسنِ تقویم‘‘ کے مصداق ہیں

 

خالقِ ارض و سماء وصافِ اکبر آپؐ کا

آپؐ کے نغمہ سرا قرآن کے اوراق ہیں

 

جز نہیں ہے کلِ ایماں، آپؐ ہی کا عشق ہے

ان کو کوئی ڈر نہیں جو آپؐ کے عشاق ہیں

 

بحر و بر ارض و سماء پرکیف نظارے فدا

آسماں پر چاند تارے محوِ استغراق ہیں

 

مجھ سے عصیاں کار پر بھی اے شہِ جود و عطاؐ

آپؐ کے اکرام ہیں الطاف ہیں اشفاقؔ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر
خطا ،ختن کے مشک سے دہن کو باوضُو کروں
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اے جود و عطا ریز
جس نے سمجھا عشق محبوب خدا کیا چیز ہے
درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں
لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے
مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ
مصروفِ حمدِ باری و مدحِ حضورؐ تھا​