اردوئے معلیٰ

جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

جن سے تری نگاہ پھری وہ بکھر گئے

 

اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی

خنداں لبی کے یار زمانے گذر گئے

 

منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں

رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے

 

آلامِ زندگی میں مزہ زندگی کا ہے

وہ کیا جیئیں گے جو غمِ دوراں سے ڈر گئے

 

خودداری و ضمیر و وفا جن کی مر گئی

وہ لوگ اپنی موت سے پہلے ہی مر گئے

 

آشفتگانِ عشق کا عالم نہ پوچھیے

نکلے تری طلب میں تو واپس نہ گھر گئے

 

دونوں جہاں میں ہیں وہی سرخرو اثر

دارو رسن سے ہنستے ہوئے جو گذر گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات