جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

جن سے تری نگاہ پھری وہ بکھر گئے

 

اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی

خنداں لبی کے یار زمانے گذر گئے

 

منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں

رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے

 

آلامِ زندگی میں مزہ زندگی کا ہے

وہ کیا جیئیں گے جو غمِ دوراں سے ڈر گئے

 

خودداری و ضمیر و وفا جن کی مر گئی

وہ لوگ اپنی موت سے پہلے ہی مر گئے

 

آشفتگانِ عشق کا عالم نہ پوچھیے

نکلے تری طلب میں تو واپس نہ گھر گئے

 

دونوں جہاں میں ہیں وہی سرخرو اثر

دارو رسن سے ہنستے ہوئے جو گذر گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
عمر بس اعداد کی گنتی سے بڑھ کر کچھ نہیں
جو دل دھڑک رہے تھے وہ دف بھی نہ ہو سکے