جن کے صدقے قلب و جاں شاداب ہیں

جن کے صدقے قلب و جاں شاداب ہیں

وہ مرے مرشد شہہ نواب ہیں

 

ذات ان کی آفتابِ معرفت

ان کے قدموں میں پڑے مہتاب ہیں

 

اے شہ نواب اے جان جمال

آپ پر قربان شیخ و شاب ہیں

 

ہیں سبیلِ خیر چشمانِ کرم

اور لب ، لطف و عطا کے باب ہیں

 

وقف ہو دل کا جہاں ان کے لیے

عشق مرشد کے یہی آداب ہیں

 

اہل دل کرتے ہیں روضے کا طواف

عقل والے محو استعجاب ہیں

 

خاندانِ پاک ہے وہ آپ کا

جس کا صدقہ منبر و محراب ہیں

 

تیرے در کے بوریے کے سامنے

سر خمیدہ اطلس و کمخواب ہیں

 

تیرے کوئے ناز کے سنگ و خذف

تاج سر ہیں ، غیرت زر ناب ہیں

 

دیجئے اذنِ حضوری دیجئے

کب سے ہم بے چین ہیں بے تاب ہیں

 

آپ کی چشم کرم کا فیض ہے

جو صدف سے کانپتے گرداب ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوث
جہاں سے نقش ظلمت کا مٹانا کس کو آتا ہے
پیکرِ حق و صداقت ، لائقِ صد احترام
مرکزِ علم و فکر و حقیقت
بے جھجھک ہر بامِ رفعت چوم آئے بوالعلی
غلامی سید بغداد کی جس نے بھی پائی ہے
جاہِ دنیا نہ خود نمائی دے
ہے ربِ کائنات ثنا کار آپ کا
خلفائے راشدین
کیے ہیں نذر دل و جان بھی، کلام کے ساتھ

اشتہارات