جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے

جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے

سوچو تو اس کی ذات بعید از قیاس ہے

 

دل کی نظر سے خالق دل پر نظر کریں

اہل دل سے میری یہی التماس ہے

 

ہر چیز سے عیاں ہیں وہ ہر چیز میں نہاں

پتوں میں اس کا رنگ ہے پھولوں میں باس ہے

 

دیتی ہے عقل ہفت حجابات کی خبر

اور عشق کا ہے دعویٰ کہ تو بے لباس ہے

 

اس عالم سراب میں، سیراب ہے وہی

جو تجھ کو ڈھونڈتا ہے جسے تیری پیاس ہے

 

فقدان ہے خدا کی خشیت کا اصل میں

ماحول میں جو آج یہ خوف و ہراس ہے

 

تو ہی تو میرا اول و آخر ہے کارساز

تو آخری امید تو ہی پہلی آس ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
تُو نے مجھ کو حج پہ بُلایا یا اللہ میری جھولی بھردے
گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا
نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے
اسم اللہ، میری جاگیر
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں

اشتہارات