اردوئے معلیٰ

Search

جو خود سپردگی تھی جنوں کی اساس میں

اب ممکنات میں نہ قرین قیاس میں

 

اعصاب مرتعش تو سماعت میں شور ہے

لایا گیا ہوں کھینچ کے ہوش و حواس میں

 

عریاں ہوئے نہ عیب بہرحال شکر ہے

پیوند بے شمار ہیں چاہے لباس میں

 

کس کس کے بوکھلا کے گلے سے نہیں لگا

کتنے ہی ہاتھ تھام کے دیکھے ہراس میں

 

کاسے میں ڈھل گئی ہے مری ملتجی انا

بے چارگی تو دیکھ مرے التماس میں

 

ہلکا سا ذائقہ ہے گزشتہ شکست کا

تلخی سی ہے تمہارے لبوں کی مٹھاس میں

 

تھا حسن جو نظر میں تو حیرانیوں کا تھا

کیا رہ گیا نگاہ زمانہ شناس میں

 

اک عمر اور ہو تو محبت میں کٹ سکے

اک عمر کاٹ دی ہے محبت کی آس میں

 

خوشبو کا انتشار علامت فنا کی ہے

اڑتا ہے رنگ پھول کا یعنی کہ باس میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ