جو سوئے دار سے نکلے

غزل سننا بھی فن ہے ـ لیکن جب آپ کسی ایسی ہستی کے ساتھ غزلیں سننے بیٹھے ہوں جو ہر مصرعے پہ سر دھننے کے بعد آپ سے اپنے فضول خیالات کی داد چاہے یا لا یعنی سوالات کے جوابات جان لینے پہ مصر ہو تو مت پوچھیے کہ وہ معصوم جو غزل پہ سر دھننے کا ارادہ رکھتا ہے اسکا کس قدر جی چاہتا کہ پاس بیٹھی اسی ہستی کی دھنائی کر دے ـ
ہم نے بچپن ان کے ساتھ گزارا ‘ جوانی بتائی اور اب بڑھاپے میں بھی ساتھ ہیں ـ
لیکن یہ تین ادوار فقط ہم پہ گزرے محترمہ آج بھی بچی ہیں ـ
اسلام آباد سے تربیلہ کا سفر طے کر کے پورا دن آپکا دماغ چاٹ لینے کے بعد رات کے ایک بجے آپکو نیند سے جگا کے ارشاد کرتی ہیں ـ
سمیرا اقبال بانو کی نظم لگاؤ ـ لیپ ٹاپ کا پاسورڈ کیا ہے؟ ؟
لا حول ولا … جی چاہا اقبال بانو کے ساتھ ہی رخصت کر دیتے ـ
خیر فقط دانت ہی پیسے جا سکتے تھے اس لمحے مزید کسی ایکشن کی گنجائش نہیں تھی ـ
کون سی نظم سننی ہے اقبال بانو ( منحوس ماری) کی؟ ؟
وہ والی لگاؤ ـ توقف ہوا
کاش آپ اس "وہ ” کا راز جان لیتے ـ محترمہ کو زندگی بھر لوگوں کے نام اور گلوکاراؤں کی غزلیں یاد نہیں ہوئیں ـ یہ پہیلی بھی ہمیں ہی بوجھنی تھی ـ
پکا ہے نا اقبال بانو کا ہی کہہ رہی ہو؟ ؟
وہ لال ساڑھی والی اقبال بانو ہی ہے نا؟ ؟
لو بھلا بتائیے …. کیا لال ساڑھی فقط ایک خاتون پہنتی ہیں؟ ؟
جی چاہا سر پیٹ لیں …اپنا نہیں انکا .. لیکن ایسا بھاں بھاں کر کے روتی ہے کہ چپ کروانا مشکل .. اور اس وقت چپ کروانے کے فرائض بھی مجھے ہی ادا کرنے پڑتے ـ
غرض صبر کے گھونٹ نگلنے کی خاطر پانی کا گلاس غٹا غٹ پی لیا ـ
ویسے ” اُس” نظم کو سن کے روح کانپ جاتی ہے ـ
اری نگوڑماری ..غزل کونسی ہے؟ ؟
وہی نا …
وہی کونسی؟ ؟ ” ہم دیکھیں گے ” ؟؟
ہاں ہاں یہی ـ لگاؤ تو
ہم نے کلس کے لگا دی ـ
اقبال بانو نے تان اڑائی
” ہم دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل پہ لکھا ہے ”
واہ واہ …. ہائے
دل پکڑ کے بیٹھ گئیں محترمہ
ہم نے دانت پیس کے دیکھا … کچھ حالت سنبھل گئی ـ
سننے دیں گی؟ ؟
ہاں ہاں سن نا … کیا ظلم کرتی ہے اقبال بانو … واللہ
تمھارے اس کالے گھور سیاہ کمرے میں اسکی آواز کی تان ہی الگ ہے ـ
خیال رکھنا چڑیلیں رہتی ہیں یہاں
ہی ہی ہی تمھیں جانتی ہوں نا میں بتا کیوں رہی ہو ـ
سخت زہر لگ رہی تھی وہ ـ دانت نکوستی
” ہم دیکھیں گے ”
سنو! اقبال بانو زندہ ہے؟ ؟
نہیں بہن دیکھنے کے لیے پہنچی ہوئی ہیں ـ
ہاہاہاہا واہ واہ … ( فضول عورت)
” جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے ”
اللہ سمیرا ـ دل کانپتا ہے ـ
کمبل اوڑھ لو ( اب غصے کی باری محترمہ کی تھی لیکن ہم نے بھی کمبل آنکھوں پہ اوڑھ رکھی تھی ـ ہمیں کیا )
” اور اہل حَکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی ”
واہ ….. آج ہوتا نا فیض پتہ چلتا اسے بھی ـ وہ حشر کرتے سوشل میڈیا والے ـ لگ پتہ جانا سی بابے نوں
لاحول ولا … تب بھی جیلیں شیلیں دیکھی تھیں فیض صاحب نے ـ ہم نے صاحب کہہ کے تلافی کرنے کی کوشش کی ـ
اچھا سنو ! ( اتنی ڈسٹرب غزل کون سنتا ہے پتہ نہیں)
جی سنائیے ـ
ساڑھی غضب ہے ـ دیکھ تو
سننے دو گی؟ ؟
ہاں ہاں سنو نا
” ہم اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھا جائیں گے ‘
یہ تان اقبال بانو کی نہیں خود ان محترمہ نے بلند کی ـ
ہم نے پلے کا بٹن آن کر کے آواز کا والیوم سو پہ رکھا ـ رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا ـ پڑوسیوں کو ہماری دیوانگی میں ویسے ہی کوئی شبہ نہیں ـ ان کی جانب سے دل مطمئن تھا ـ
لیکن اس سو کے والیوم میں بھی محترمہ کی منحوس آواز کانوں میں پڑتی ـ
” ہم دیکھیں گے ”
کتنا رولا ہے نا ان آنکھوں کا؟ ؟
اب کہ ہم نے غضب ناک گھوری ڈالی جو اندھیرے کے باعث وہ دیکھ نہ پائیں ـ
اس فیض کو تو آنکھوں کا کنکشن ہی کاٹ دینا چاہیے تھا ـ
باجی اللہ کو مان لو ـ
ارے ان آخری مصرعوں پہ مان لیا اللہ کو
” اٹھے گا اناالحق کا نعرہ ”
اور اس نعرے کے بعد کمرے میں سکون آگیا کیونکہ غزل اختتام پہ تھی ـ
نظم کے ختم ہونے سے پہلے ہماری نصیحت پلو سے باندھ لیجیے کہ کبھی کسی بد ذوق کے ساتھ بیٹھ کر اقبال بانو کوبسننے کی غلطی مت کیجیے گا ـ
شکریہ
بس نام رہے گا اللہ کا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

داستانِ پُراسرار: گوروں کے دیس کے مُشاعرے
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
بیٹی کے نام خط (۱ )
مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
جب ہم ملے
پیاری اماں کے لیے خط (۱)
 کہانی بحرین کی
عدم توازن
بیٹی کے نام خط ( ۳ )
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار