جو شمع یادِ نبی کی جلائی جاتی ہے

جو شمع یادِ نبی کی جلائی جاتی ہے

تو روشنی کی کرن دل پہ چھائی جاتی ہے

 

خیالِ مدنی میاں جب بھی مجھ کو آتا ہے

شبیہہ ان کی تصور میں چھائی جاتی ہے

 

مہک وہ جنتِ فردوس کے چمن میں کہاں

مہک جو گیسوئے احمد سے آئی جاتی ہے

 

چلو اے حاجیو مکے سے ہم مدینے چلیں

درِ رسول پہ بگڑی بنائی جاتی ہے

 

مدینے اپنے فداؔ کو بھی اب بلا لجیے

کہ جھکنے آپ کے در پر خدائی جاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل
نالۂ درد مرا زود اثر ہو جائے
آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر
عمل میں حسنِ عمل کی جھلک ضروری ہے
ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
کہتے ہو تم کہ تم کو یقیں دین پر بھی ہے
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
عاصیوں پر رحمتیں اپنی لٹانے آگئے
آ وڑیا ترے شہر مدینے اک غمگین سوالی ھُو
تمنا دل کی بڑھتی جا رہی ہے

اشتہارات