اردوئے معلیٰ

جھلکتی ہے حبِ نبی جو بیاں سے

وہ ظاہر بھی ہو کچھ عمل کی زباں سے

 

محبانِ خیرالبشر یہ سمجھ لیں

گزرنا ہے ان کو کڑے امتحاں سے

 

نہیں سیج پھولوں کی کچھ دینداری

مسلماں نے یہ راز جانا اذاں سے

 

میں رزقِ ثنا مانگتا ہوں ہمیشہ

طفیلِ نبی سب کے روزی رساں سے

 

مجھے نعت کے حرف ملتے ہیں اکثر

گزر کر خیالات کے کارواں سے

 

یہ اعزاز ہے مدحتِ مصطفیٰ کا

چمن اس کا محفوظ ہے ہر خزاں سے

 

رسولِ مکرم کی الفت کا صدقہ

ملا مدح کی شکل میں لامکاں سے

 

فضائے مدینہ میں بھی گونجتے ہیں

ثنا کے جو الفاظ نکلیں زباں سے

 

ہوا سرورِ دیں پہ جب دیں مکمل

تو بعد ان کے آئے نبی پھر کہاں سے؟

 

عزیزؔ اپنے آقا کے در پر پہنچ کر

سناؤں گا احوال اشکِ رواں سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات