جھکا کے اُن کی عقیدت میں سر مدینے چلو

 

جھکا کے اُن کی عقیدت میں سر مدینے چلو

برہنہ پا چلو با چشمِ تر مدینے چلو

 

وہ جانتے ہیں ہر اک دُکھ مٹا بھی سکتے ہیں

وہیں مقیم ہیں وہ چارہ گر مدینے چلو

 

صدائے صَلِ عَلٰے ہو تمہارا زادِ سفر

ردائے صَلِ عَلٰے اوڑھ کر مدینے چلو

 

ہوائیں چومنے آئیں گی دست و نقشِ قدم

فرشتے ہونگے سدا ہمسفر مدینے چلو

 

نہیں ہے اور کوئی غمگسار اُن کے سوا

سُنانے قصہء زخمِ جگر مدینے چلو

 

سلام کرنے کو شاہِ اُمَم کے روضے پر

فرشتے آتے ہیں شام و سحر مدینے چلو

 

جو دیکھ آئے ہیں اک بار گنبدِ خضریٰ

وہ کہہ رہے ہیں کہ بارِدگر مدینے چلو

 

بھٹک رہے ہو کہاں دُور اپنے محور سے

وہی ہے اپنا وطن اپنا گھر، مدینے چلو

 

کبھی تو آئے گی اشفاقؔ یہ ندا مجھ کو

بُلا رہے ہیں تجھے تاجور مدینے چلو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ