اردوئے معلیٰ

جہل کا سر درِ ابلاغ پہ خم تُو نے کیا

ظلمتِ کفر کو خورشیدِ حرم تُو نے کیا

 

جس سے انکار کوئی قوم نہیں کر سکتی

آدمیت پہ وہ احساں وہ کرم تُو نے کیا

 

چاند تاروں سے بھی آگے تھی رسائی تیری

آسمانوں کو مشرف بہ قدم تُو نے کیا

 

چل پڑیں لوگ بھٹک کر نہ جُدا رستوں پر

اس لیے دین میں دنیا کو بھی ضم تُو نے کیا

 

اس قدر تو کوئی ماں بھی نہ تڑپتی نہ ہو گی

جس قدر اُمتِ بیمار کا غم تُو نے کیا

 

شعر گوئی تو مظفر کو خدا نے بخشی

اپنا مداح اسے شاہِ امم تُو نے کیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات