جیسے خلا کے پس منظر میں رنگ رنگ کے نقش و نگار

جیسے خلا کے پس منظر میں رنگ رنگ کے نقش و نگار

باتیں اس کی وزن سے خالی لہجہ بھاری بھرکم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گِنے چُنے ھوئے سینوں میں جھانکتا ھے یہ نُور
ایک انگڑائی مرے سامنے لہرانے لگی
اگر سزا ہے مقدر تو کیا جزا کی طلب!
تمھاری نظم کی شوخی ، سمجھ نہ پائے گی
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
پیار کی باتیں کیجیے صاحب
بہت دن سے وہ نا مانوس لہجہ
آئے تو یوں کے جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
فتویٰ نہ لگا واعظ گر عشق گناہ ہوتا
وہ مری میز پہ رکھتا ہے جہاں سرخ گلاب